استفتاء
بنام جامعہ دارالعلوم کراچی


کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ:
لیز چپس کمپنی ،پیپسی کولا انٹر نیشنل نامی امریکی کمپنی کاذیلی ادارہ  ہے جو مختلف اقسام کی چپس تیار کرتا ہے۔ملٹی نیشنل کمپنی ہونے کے باعث پاکستان میں بھی ان کے کارخانے ہیں ۔اس بات کےواضح ثبوت موجود ہیں کہ لیز کی مصنوعات میں ذائقہ بڑھانے کے لئے جو اجزا ملائے جاتے ہیں ،ان میں سور کی چربی کےکچھ جز شامل ہوتے ہیں ،فتویٰ کی اس درخواست کے ساتھ یہ ثبوت منسلک ہیں۔
۱۔ لیز کی اپنی ویب سائٹ پر یہ وارننگ موجود ہے کہ ان کی کچھ مصنوعات میں سور کے اجزاء شامل ہو سکتے ہیں ،کیونکہ جو ادارے انہیں خا م مال فراہم کرتے ہیں ،وہ سور کے اجزا اپنی پروڈکٹ کی تیاری میں استعمال کرتے ہیں ۔دیکھئے منسلک صفحہ نمبر۱۔
۲۔لیز نے "امت "کو جو دستاویزات دی ہیں ،ان کےمطابق پاکستان میں لیز کی مصنوعات تیار کرنے کے لئے ذائقہ بڑھانے والے اجزا تھائی لینڈ کی ۲ کمپنیوں" IFF"اور" اجینوموتو "سےمنگوائے جاتے ہیں۔IFFنے اپنی ویب سائٹ پر اپنی تمام پروڈکٹ کے لئے وارننگ کے طور پر لکھ رکھا ہے کہ ان کی پروڈکٹ حلال ہیں، مگر اس کی کوئی گارنٹی نہیں کہ یہ حلال ہی ہوں۔اجینو موتوکا دعویٰ یہ ہے کہ اس کی پروڈکٹ حلال ہیں ،مگر جنوری 2001ء میں یہ بات غلط ثابت ہوئی۔انڈونیشیامیں مذکورہ کمپنی اپنی پروڈکٹ کو حلال کہہ کر فروخت کر رہی تھی مگر اس کے کارخانے پر پولیس چھاپے سےانکشاف ہوا کہ ذائقہ بڑھانے والے مصنوعات کی تیاری میں سور کے اجزا شامل کئے جا رہے تھے ۔کمپنی کے ڈائریکٹرز گرفتار ہوئے ان میں تین جاپانی تھے،بعد میں کمپنی نے تحریری طور پر اپنا جھوٹ تسلیم کر کے معافی مانگی،بعد میں اجینو موتو انڈونیشیا میں اپنا کار خانہ بند کر کے 2001ء میں تھائی لینڈ منتقل ہو گئی اور اب یہی کمپنی لیز چپس کو ذائقہ بڑھانے والے اجزا فراہم کرتی ہے ۔انڈونیشیاکے جنوری/فروری  2001ء کے اخبارات میں یہ تفصیل موجود ہے۔دیکھئے منسلک صفحہ نمبر۲۔۳۔
۳۔لیز چپس نے دعویٰ کیاتھا کہ جامعہ اشرفیہ لاہور نے اس کی مصنوعات کوسو فیصد حلال قرار دیا ہے جامعہ اشرفیہ نے اس دعویٰ کو جھوٹا قرارا دیا ہے اور کہا ہے کہ لیز نے ان کا مشروط فتویٰ بد دیانتی سے استعمال کیا ہے دیکھئے منسلک صفحہ نمبر  ۴۔
۴۔فوڈ سائنس کے حوالے سے دنیا کی ٹاپ یونیورسٹی ہائی لینڈ کی(Wageningen University)ہے،یہ یونیورسٹی غذائی مواد کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے ذائقہ بڑھانے والےجز (E.631)کے بارے میں اس نے اپنی ویب سائٹ پر مکمل تفصیل دی ہے اس تفصیل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا ذائقہ بڑھانے والا جز گوشت سے بنےیا پودوں سے مسلمانوں کے لئے حلال یا (Suitable)نہیں ہے۔ دیکھئے منسلک صفحہ نمبر ۵
       پاکستان میں غذائی اشیاء کو چیک یا ٹیسٹ کرنے کے بعد/ قابل فروخت کا سرٹیفکیٹ دینےء والا سرکاری ادارہ پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ہے لیز چپس نے اس ادارے سے اپنی مصنوعات منظور کرائیں، نہ ہی ٹیسٹ کرائیں ۔
درخواست گزار
سعید احمد عباسی
پالیسی ریسرچ سینٹر ۔روزنامہ امت۔کراچی
۱۰۔۶۔۲۰۰۹ء


الجواب بعون ملہم الصواب


      جواب سے پہلے چندباتیں بطورِ تمہید سمجھ لینا مناسب ہے۔
     (الف)گوشت میں اصل حرمت ہے ،یعنی اس کا  اصل حکم حرام ہونا ہے ،اس لئے جب تک  اس بات پر دلیل یا واضح قرینہ قائم نہ ہوجائے کہ یہ گوشت حلال جانورکا ہے اور شرعی طریقہ سے ذبح کرکے حاصل کیا گیا ہے اس وقت تک اس گوشت کو حرام سمجھا جائیگا۔جبکہ گوشت کے علاوہ دوسری چیزوں میں اصل حلت  اور اباحت ہے یعنی انکا اصل حکم حلال اور مباح ہونا ہے،اس لئے گوشت کے علاوہ کھانے پینے کی دوسری چیزوں کو اس وقت تک حلال اور مباح سمجھا جائیگاجب تک  انمیں حرام ہونے پر کوئی دلیل یقینی طورپر قائم نہ ہوجائے ،مثلاً روٹی،پانی  یا دوسری غذائی اشیاء میں چونکہ حلال ہونا اصل ہے اس لئے یہ چیزیں خواہ  کسی مسلمان سے حاصل ہوں یا کسی کافر سے ،کسی مسلم ملک سے درآمد ہوئی ہوں یا غیر مسلم ملک سے بہر صورت اس وقت تک وہ چیزیں  حلال اور پاک سمجھی جائیں گی جب تک ان میں کوئی حرام یا ناپاک چیز شامل ہونے کاکوئی ثبوت  یا دلیل یقینی طور پر معلوم نہ ہوجائے،البتہ جب  دلیل سے یہ ثابت ہوجائے کہ کسی حلال چیز میں کوئی ناپاک یا حرام چیز شامل کی گئی  ہے تو اس وقت وہ حلال چیز حرام اور ناپاک ہوجائیگی۔لیکن خیال رہے کہ شرعی نقطہ نگاہ سے حرام یا ناپاک ہونے کی دلیل یا ثبوت اسکو کہا جائیگا جس میں اس کے تمام پہلوؤں پر فقہی اعتبار سے تحقیق ہوجانے کے بعد اسکا حرام ہونا یا ناپاک ہونا ثابت ہو ا ہو یا اس چیز میں حرام چیز یا ناپاکی نظر آرہی ہو ورنہ  اس کے حرام ہونے کا یقینی حکم نہیں لگایا جاسکتا ،کیونکہ  کسی حلال چیز کو  حرام قراردینے کے لئے شرعی دلیل اورمستند  ثبوت کے بغیر محض یہ بات کافی نہیں کہ   لوگوں کے درمیان اس کا حرام ہونا مشہور ہوجائے،یا اس کی حرمت کے متعلق اخبارات یا جریدوں میں مختلف خبریں یا مضامین شائع ہوجائیں ۔
      (ب) جن چیزوں میں اصل اباحت اور حلت ہے ان میں اگر  حرام یا ناپاک ہونے کا کوئی  شبہ پید ہوجائے اور وہ شبہ کسی  دلیل سے پیدا ہوا ہے تواس صورت میں بھی اس شبہ کے نتیجے میں اس مباح چیزکو چھوڑ دینا شرعا  واجب نہیں  ،بلکہ شبہ سے بچنے کی غرض سے اسکو  چھوڑنا مستحب  اور تقوی کا تقاضا ہے۔لیکن پیدا ہونے والا شبہ اگر کسی دلیل سے پیدا نہ ہوا ہو  توایسے شبہ کا شرعا کوئی اعتبار نہیں،  اس لئے  اس سے بچنا  شرعا مستحب بھی نہیں ہے ،کیونکہ بلادلیل پیدا ہونے والا شبہ وسوسہ ہے اور وسوسہ کی وجہ سے کسی حلال اور جائز چیز کو ترک کرنے ، کسی دوسرےکو ترک کرنے کا مشورہ دینےیااسکے متعلق بہت زیادہ کنج کاؤمیں پڑنےکی شرعا ً ضرورت نہیں بلکہ ایسی صورت میں اس   تحقیق اور کھود کرید میں لگ جانے میں کہ اسمیں کوئی حرام چیز تو شامل نہیں ہو گئی، شرعی احکام میں بلاوجہ تنگی پیدا کرنا ہے جو شرعا پسندیدہ نہیں، چنانچہ مؤطا امام مالک،سنن کبری،سنن دارقطنی وغیرہ کتبِ حدیث  میں حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مشہور واقعہ مذکور ہے کہ آپ ایک جنگل اور بیابان سے گزررہے تھے ،آپکے ساتھ حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے،راستے میں وضوکے لئے جب ایک حوض  پر آئے توحضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بغرضِ تحقیق صاحبِ حوض سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے حوض پر درندے پانی پینے کے لئے آتے ہیں ؟( فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِصَاحِبِ الْحَوْضِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ؟)اس سے پہلے کہ حوض  والا کچھ جواب دیتا ،  حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اے حوض والا ہمیں مت بتانا کہ اس حوض پر درندے آتے ہیں یا نہیں؟(فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا)وجہ یہی تھی  کہ چونکہ پانی میں اصل حلت اور طہارت ہے جس سے اصلاً وضو کرنا جائز ہے ،لھٰذا بلاوجہ کھود کرید میں پڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ  جب تک اس میں کوئی ظاہری ناپاکی یا یقینی طورپر اسکے ناپاک ہونے کا علم نہ ہو جائے اس وقت تک  اصل حلت کی بنیاد پر اس سے وضو غسل وغیرہ جائز ہے۔
      (ج)مذکورہ بالا تفصیل کی رو سےکھانے پینے میں استعمال کی جانے والی چیزوں کی تین قسمیں  ہوسکتی ہیں:(۱)گوشت چربی وغیرہ حیوانی اجزاء مثلاً کلیجے،پوٹے یادماغ وغیرہ(۲)گوشت ، چربی وغیرہ کے علاوہ  دیگر کھانے پینے کی اشیاء جن میں حیوانی اجزاء  مثلاً گوشت یا چربی استعمال کی گئی ہو۔(۳) گوشت، چربی وغیرہ کے علاوہ  دیگر کھانے پینے کی اشیاء جن میں حیوانی اجزاء ملانے کے بارے میں علم نہ ہو ۔
     پہلی قسم کے بارے میں معلوم ہوچکا ہے کہ اس کا تعلق ان چیزوں سے ہے جن میں اصل حرمت ہے اور جب تک کسی دلیل  یا واضح قرینہ سے انکا حلال ہونامعلوم نہ ہوجائے اس وقت تک انہیں حرام سمجھا جائیگا۔چونکہ مسلم ممالک میں ذبح ہونے والے گوشت کے حلال اور مشروع ہونے پر ظاہر ِ حال واضح قرینہ  ہے اس لئے اس کو حلال قرار دینے کے لئے تحقیق کی ضرورت نہیں ،لیکن غیر مسلم ممالک کے گوشت(یا ایسے شہروں  میں پائے جانے والے گوشت جہاں زیادہ تر غیر مشروع گوشت کا رواج ہے )کے بارے میں جب  تک یقین یا گمانِ غالب سے معلوم نہ ہوجائے کہ یہ حلال جانور کا گوشت ہے اور شرعی طریقے سے ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت ہے اس وقت تک اسکو حلال سمجھنا اور کھانا جائز نہیں۔
      اور دوسری قسم یعنی  گوشت ، چربی وغیرہ کے علاوہ  دیگر کھانے پینے کی اشیاء جن میں حیوانی اجزاء  مثلاً گوشت یا چربی استعمال کی گئی ہو ان کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ کسی مسلم ملک کی مصنوعات ہوں اور وہاں پر غیر شرعی طریقے سے ذبح کرنے کا عام رواج بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں ان اشیاء کو حلال سمجھا جائے گا اور ہر شخص پر استعمال سے قبل انکے متعلق تحقیق کرنا ضروری نہ ہوگا۔اور اگر وہ اشیاء کسی غیر مسلم ملک سے درآمد کردہ ہوں تو ایسی صورت میں انکا استعمال اسوقت تک جائز نہ ہوگا جبتک یہ تحقیق نہ ہوجائے کہ ان میں استعمال ہونے والاگوشت وغیرہ  صحیح شرعی طریقے سے حاصل کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ گوشت چربی وغیرہ سے بننے والی چیزوں کا مذکورہ حکم اس وقت ہے جب گوشت یا چربی کو ان کی  ماہیت تبدیل کئے بغیر ان میں استعمال کیا گیا ہو یا استعمال کے بعد مصنوعات کی تیاری تک کسی بھی مرحلہ میں انکی ماہیت تبدیل نہ ہوئی ہو۔
      جبکہ تیسری قسم کی چیزوں کا حکم بھی اوپر تفصیلاً معلوم ہوچکا ہے کہ حرام ہونے پر کوئی دلیل قائم ہونے سے پہلے تک  ان کو حلال ہی  سمجھا جائیگا،شبہ کی صورت میں بچنا  مستحب اور بہتر ہوگا اور وسوسہ کا شرعا کچھ اعتبار نہ ہوگا۔
مذکورہ تمہیدی باتوں کے بعد اصل سوال کا جواب ملاحظہ ہو۔
      سوال میں درج  شدہ بیان کے مطابق  لیز چپس کمپنی ،مختلف اقسام کے چپس تیارکرتی ہے،اور یہ کہ لیز کی مصنوعات میں ذائقہ بڑھانے کے لئے جواجزاء ملائے جاتے ہیں ،ان میں سور کی چربی کے کچھ جزشامل ہوتے ہیں ،سوال میں ذکرکردہ اس بات کی تائید میں کچھ معلوماتی دستاویزات بھی سوال کے ساتھ منسلک ہیں۔
       لھٰذااگر واقعۃً لیز چپس میں خنزیر کی چربی (یاکسی بھی ناپاک چیز)کے کچھ اجزاءملائے جاتے ہوں جیساکہ سوال میں ہے تو اسکی دوصورتیں ہوسکتی ہیں۔
       (الف)خنزیر کی چربی کو(یا کسی بھی دوسری ناپاک چیز کو)اسکی  طبعی حالت میں رکھتے ہوئے پیس کریاکوٹ کرباریک ذرات میں تبدیل کرکےذائقہ بڑھانے کی غرض سےان   ذرات کوتیار شدہ لیز  چپس میں یا کسی بھی کھانے پینے کی چیز میں ڈال دیا جاتا ہو تو اس صورت میں یہ چپس اور اشیاء جن میں  ناپاک ذرات ملائے گئے ہیں ناپاک  ہیں اور انکاکھانا پینا بھی حرام ہیں ۔
       (ب)دوسری صورت یہ ہے کہ خنزیر کی چربی کو(یا کسی بھی دوسری ناپاک چیز کو)مشینوں کے ذریعہ مختلف کیمیکل میں اسطرح حل کیا جاتا ہو کہ چربی اور ناپاک چیز کی ماہیت اور حقیقت تبدیل ہوجاتی ہو پھراس تبدیل شدہ چیز کو  ذائقہ بڑھانے کی غرض سے حلال چیز سے تیار کردہ چپس میں ڈالدیا جاتا ہو ،یا چپس کی تیاری سے پہلے ہی  اسکے خام مواد میں خنزیر کی چربی کو(یا کسی بھی دوسری ناپاک چیز کو)پہلے ملا دیا جاتاہو،اسکے بعدچربی یا ناپاک چیز ملی ہوئی  ان مواد کومشینوں میں ڈالکر اس طرح چپس تیار کی جاتی ہو کہ چپس بننے تک  مختلف کیمیاوی  تبدیلی کی وجہ  سے انکی ماہیت اور حقیقت تبدیل ہوجاتی ہو تو ان دونوں شکلوں میں مذکورہ چپس حلال ہونگے اور انکا استعمال جائز ہوگا۔
         جواب کا حاصل یہ ہے کہ اگر تحقیق سے(مثلاً کمپنی کے اقرار سے یا شرعی شھادت سے) لیز چپس کے بارے میں یہ ثابت ہوجائے کہ اس میں خنزیر کی چربی (یاکسی بھی ناپاک چیز)کے کچھ اجزاءملائے جاتے ہوں  اور اسکی تیاری میں پہلی صورت اختیار کی جاتی ہے تواسکے حرام وناپاک ہونے میں کوئی شبہ نہیں ،لیکن جب تک مذکورہ تفصیل کے مطابق اسکے حرام یا ناپاک ہونے کا علم نہ ہو یا اسکی تیاری میں دوسری صورت اختیار کی جاتی ہو تو اسکو حلال ہی سمجھا جائیگا اور اسکا استعمال بھی جائز ہوگا،تاہم چونکہ سوال کے ساتھ منسلکہ شواہد اگرچہ موجودہ شکل میں شرعاً مستند ثبوت یا دلیل نہیں ہیں لیکن شبہ پیدا کرنے میں بنیاد بن سکتے ہیں اس لئے شبہ سے بچنے کی خاطر اگرکوئی اپنے طور پر احتیاط کرنا چاہے تو یہ بہتر اور اولیٰ ہوگا کیونکہ شبہ سے بچنا مستحب ہے جیساکہ تفصیل تمہید میں گزرچکی ہے،خصوصاً  جبکہ چپس کوئی ایسی ضرورت کی چیزبھی  نہیں جو ضروریاتِ زندگی میں شامل ہوں۔
       واضح رہے کہ E.numbersیاE.codes کے بارے میں اب تک جو معلومات ہمیں حاصل ہوئیں انکی رو سےیہ  ان کوڈز کو کہا جاتا ہے جو کسی بھی مصنوعات میں( اور خاص کرکھانے پینے کی اشیاء میں ذائقہ بڑھانے کے لئے) مختلف نباتاتی اور حیوانی ذرائع  سے حاصل ہونے والے اجزاء  کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ  مختلف مصنوعات اور کھانے پینے کی چیزوں کے لیبل پر درج ہوتے ہیں، ان کا استعمال عام طور پر مغربی ممالک  میں کثرت سے ہوتا ہے مگر اب ان کا استعمال دوسرے ملکوں میں بھی ہونے لگا ہےبعض ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق انمیں تفصیل یہ ہےکہ ان میں سے بعض مکمل حلال اشیاء سے حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ E.406ایک اجزائے ترکیبی agerکا کوڈ ہے جو سمندری نباتات(seaweed) سے حاصل کیا جاتا ہے،اور بعض E.codesایسے ہیں جو حلال وحرام دونوں قسم کی اشیاء سے حاصل کیے جاسکتے ہیں یعنی ان میں یہ بھی امکان ہے کہ انہیں حلال اشیاء سے تیار کیا گیا ہو اور یہ بھی امکان ہے کہ حرام اشیاء سے تیار کیا گیا ہو جیسا کہFatty Acid E.570کا کوڈ ہے جو کہ حیوانات اور نباتات دونوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لہذا کسی چیز کےاندر درج کوڈز کو بنیاد بناکر کسی چیز کو حتمی طور پراس وقت تک حرام قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک کہ ہر کوڈ کے بارے میں علیحدہ علیحدہ کسی مستند تحقیق سے معلوم نہ  ہوجائے کہ اس کوڈ کے تحت آنے والی اشیاء میں سے کس چیز کو استعمال کیا گیا ہے اور اسے کہاں سے حاصل کیا گیا ہے،اگر کوئی حرام یا ناپاک چیز اسمیں استعمال ہوئی ہو توکیا  تیاری مکمل ہونے تک کسی بھی مرحلہ میں اسکی ماہیت اور حقیقت تبدیل ہوئی یا نہیں؟وغیرہ،بلکہ اس صورت میں حلال وحرام ہونے کا فیصلہ اوپر تمہید میں بیان کردہ  تفصیل کو مدنظر رکھتے ہوئے شرعی ضابطہ کے مطابق کیا جائیگا ، تا ہم اگر کوئی شخص احتیاط کے پیش نظر اپنی ذات کی حد تک ان چیزوں سے اجتناب کرے تو اچھا ہے، جیساکہ تفصیل اوپر گزری ہے۔


في موطأ مالك - (ج ۱ / ص ۵۸)
"أن عمر بن الخطاب خرج في ركب فيهم عمرو بن العاص حتى وردوا حوضا فقال عمرو بن العاص لصاحب الحوض يا صاحب الحوض هل ترد حوضك السباع فقال عمر بن الخطاب يا صاحب الحوض لا تخبرنا فإنا نرد على السباع وترد علينا"
وفي أوجز المسالك:۱/۳۲۵
"فقال له عمر بن خطاب رضي الله عنه (يا صاحب الحوض لا تخبرنا )لأنا لم نكلف بالتفحصِ ,فلو فتحنا هذالباب علي أنفسنا لوقعنا في المشقة"
وفي فتح القدير ج: ۱ ص: ۲۰۰
"خشبة أصابها بول فاحترقت ووقع رمادها في بئر يفسد الماء وكذلك رماد العذرة وكذا الحمار إذا مات في مملحة لا يؤكل الملح وهذا كله قول أبى يوسف خلافا لمحمد لأن الرماد أجزاء تلك النجاسة فتبقى النجاسة من وجه فالتحقت بالنجس من كل وجه احتياطا انتهى وكثير من المشايخ اختاروا قول محمد وهو المختار لأن الشرع رتب وصف النجاسة على تلك الحقيقة وتنتفي الحقيقة بانتفاء بعض أجزاء مفهومها فكيف بالكل فإن العظم واللحم فإذا صار ملحا ترتب حكم الملح ونظيره في الشرع النطفة نجسة وتصير علقة وهي نجسة وتصير مضغة فتطهر والعصير طاهر فيصير خمرا فينجس الرجعة خلا فيظهر فعرفنا أن استحالة العين تستتبع زوال الوصف المرتب عليها وعلى قول محمد فرعوا الحكم بطهارة صابون صنع من زيت نجس"
وفي البحر الرائق ج: ۱ ص: ۲۳۹
"والسابع انقلاب العين فإن كان في الخمر فلاخلاف في الطهارة وإن كان في غيره كالخنزير والميتة تقع في المملحة فتصير ملحا يؤكل والسرقين والعذرة تحترق فتصير رمادا تطهر عند محمد ...............في المحيط وكثير من المشايخ اختاروا قول محمد وفي الخلاصة وعليه الفتوى وفي فتح القدير أنه المختار لأن الشرع رتب وصف النجاسة على تلك الحقيقة وتنتفي الحقيقة بانتفاء بعض أجزاء مفهومها فكيف بالكل فإن العظم واللحم فإذا صار ملحا ترتب حكم الملح ونظيره في الشرع النطفة نجسة وتصير علقة وهي نجسة وتصير مضغة فتطهر والعصير طاهر فيصير خمرا فينجس الرجعة خلا فيطهر فعرفنا أن استحالة العين تستتبع زوال الوصف المرتب عليها وعلى قول محمد فرعوا الحكم بطهارة صابون صنع من زيت نجس  اه وفي المجتبى جعل الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته لأنه تغير والتغيير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔واللہ اعلم بالصواب


                                                                                                           احقر شاہ محمد تفضل علی
الجواب صحیح                                ۱۴۳۰/۷/۵ ھ
بندہ محمد تقی عثمانی عفی عنہ
۷۔۷۔۱۴۳۰ھ